ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / میانمار:مساجد اور مدارس مسمارکرنے کا فیصلہ

میانمار:مساجد اور مدارس مسمارکرنے کا فیصلہ

Thu, 22 Sep 2016 18:30:09    S.O. News Service

برما، 22؍ستمبر (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )راکین کے سلامتی اور سرحدی امور کے وزیر کرنل ٹین لِن نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ ہم ایسی تمام مساجد اور دیگر عمارتیں منہدم کرنے پر کام کر رہے ہیں جو کہ قانون کے مطابق اجازت کے ساتھ تعمیر نہیں کی گئیں۔میانمار میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے کہا ہے کہ وہ ریاست راکین میں مسلم اکثریتی آبادی والے علاقوں ماؤنگدا اور بوتھداؤنگ میں غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے جا رہے ہیں جس میں مساجد اور مذہبی درسگاہیں بھی شامل ہیں۔راکین کے سلامتی اور سرحدی امور کے وزیر کرنل ٹین لِن نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ ہم ایسی تمام مساجد اور دیگر عمارتیں منہدم کرنے پر کام کر رہے ہیں جو کہ قانون کے مطابق اجازت کے ساتھ تعمیر نہیں کی گئیں۔وزیر کے ایک کارکن نے بتایا کہ لِن یہاں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی عمارتوں کو گرانے کی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ٹین لِن کو حال ہی میں آنگ سان سوچی نے وزیر مقرر کیا تھا۔حکام کے مطابق ماؤنگدا میں ایک اندازے کے مطابق 2270غیر قانونی عمارتیں ہیں جن میں نو مساجد اور مسلمانوں کے 24مدارس شامل ہیں جب کہ بوتھداؤنگ میں تین مساجد اور 11مدرسوں سمیت 1056غیر قانونی تعمیرات واقع ہیں۔میانمار جسے برما بھی کہا جاتا ہے، راکین یہاں کی پسماندہ ترین ریاست ہے جس میں تقریباً ایک لاکھ 25ہزار روہنگیا مسلمان بستے ہیں۔ اس برادری کی اکثریت 2012 میں بدھ مت کے پیروکاروں اور مسلمانوں میں ہونے والے نسلی فسادات کے بعد سے عارضی کیمپوں میں رہ رہی ہے۔اس نسلی اقلیتی فرقے کو ایک عرصے سے امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے اور میانمار انھیں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن تصور کرتے ہوئے اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا۔ گو کہ بہت سے روہنگیا خاندان کئی نسلوں سے یہاں آباد ہیں۔1962 میں میانمار میں پہلی مرتبہ فوج کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہاں مساجد اور دینی مدارس کی تعمیر ممنوع قرار دے دی گئی تھی۔عمارتوں بشمول مذہبی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب میانمار کی وزیر خارجہ آنگ سان سوچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے جا رہی ہیں۔اس سے قبل امریکہ میں انھوں نے صدر براک اوباما سے ملاقات کی تھی جس میں صدر نے میانمار پر عائد اقتصادی پابندیوں کو اس ملک کی طرف سے قابل قدر سماجی اور سیاسی اصلاحات کی بنا پر ہٹانے پر اتفاق کیا تھا۔اوباما کے اس فیصلے کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے یہ کہہ کر نشانہ بنایا گیا کہ میانمار کی حکومت اب بھی روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔میانمار میں مسلمان برادری کے ایک رہنما یو آئی لوِن جو کہ اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان کی طرف سے روہنگیا کے تنازع کے تحقیقاتی کمشین کے رکن بھی ہیں،نے بتایا کہ اس تازہ فیصلے سے مسلمان آبادی میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور انھوں نے مختلف عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔مسلمان رہنماؤں نے مذہبی امور کے وزیر سے ملاقات کی بھی کوشش کی تھی۔ قانون کے مطابق یہاں مذہبی آزادی ہے اور مذہبی مقامات کو ان کی جگہ پر رکھنے اور ان کی بحالی کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔


Share: